Sunday, 18 March 2018
Saturday, 17 March 2018
شامی فوج کا ’مشرقی غوطہ کے 70 فیصد علاقے‘ پر کنٹرول، ہزاروں افراد کا انخلا
تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں شام میں لڑائی زدہ علاقے مشرقی غوطہ اور عفرین سے 60 ہزار افراد اپنی جان بچانے کے لیے نکلے ہیں۔
مشرقی غوطہ میں حکومت افواج کی بمباری کی وجہ سے 16 ہزار افراد نکلیں ہیں۔ اس علاقے حکومتی افواج باغیوں پر بمباری کر رہی ہیں۔
شام کے شمالی قصبے عفرین سے بھاگنے والے 30,000 افراد میں سے 18 افراد ترکی کی جانب سے کی جانے والی شیلنگ کی زد میں آ کر مارے گئے۔
مشرقی غوطہ میں حکومت افواج نے دوبارہ شدید بمباری شروع کی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
غوطہ میں جمعے کو روس کے فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 31 افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری نے جمعے کو غوطہ کے مشرقی صوبے میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
سیرین آبزرویٹری کے مطابق جمعرات کو بھی 20,000 شہری باغیوں کے زیر انتظام علاقوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹAFP
اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تین ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔
غوطہ کا شمار ان چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے۔
فورسز نے گذشتہ ماہ مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
اگرچہ یہ علاقہ باغی فورسز کے کنٹرول میں ہے تاہم وہاں سے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات میں تھوڑی بہت کامیابی ہوئی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ بدھ کی صبح 25 ایسے خاندانوں کو کامیابی سے حکومتی چیک پوائنٹ کے راستے نکال لیا گیا ہے جنھیں طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اس سے قبل منگل کو 31 خاندانوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹAFP
مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔
شام میں جاری جنگ کے سات سال مکمل ہونے کے موقعے پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے گذشتہ روز اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔
اقوام محتدہ کے مطابق ان سات سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔http://www.bbc.com/urdu/world-43428833
loading...
پشاور میں جماعتِ الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے دفاتر بند
تصویر کے کاپی رائٹAFP
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مقامی انتظامیہ نے وزارتِ داخلہ کے احکامات پر جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت کے دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پشاور میں حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوہ اور اسی تنظیم کے زیر انتظام امدادی ادارے فلاح انسانیت کے دفاتر کو انتظامیہ نے تالے لگا دیے ہیں جبکہ اس تنظیم کے زیر انتظام تین مدرسے اور دو مساجد محکمۂ اوقات کی تحویل میں دے دی گئی ہیں۔
سرکاری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا لاہور میں اس تنظیم اور اس کے ذیلی تنظیموں کے دفاتر پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں ۔
بظاہر ان دفاتر کے خلاف کارروائی کے وجہ نہیں بتائی گئی لیکن سرکاری حکام نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے حکم پر ضلعی انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں تنظیم اور اس سے وابستہ اداروں کے خلاف کارروائی کے حکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہ خط گذشتہ ہفتے کمشنر پشاور کو لکھا گیا تھا۔
مبصرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستان پر جماعت الدعوہ کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کو ملنے والی امداد کو حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوکے خلاف کارروائی سے مشروط کیا ہے۔
پاکستان کا نام دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کے حوالے پاکستان پر دباؤ بڑھ گیا تھاhttp://www.bbc.com/urdu/pakistan-43438860
loading...
Subscribe to:
Posts (Atom)
بس کی رفتار اچانک بہت تیز ہو گئی‘: ایران میں پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ کیسے پیش آیا؟
میں بس کے تقریبا درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔ سفر آرام سے گزر رہا تھا۔ میں سو چکا تھا کہ اچانک بس میں ہلچل پیدا ہونے سے آنکھ کھلی تو ہر کوئی ...
-
میں بس کے تقریبا درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔ سفر آرام سے گزر رہا تھا۔ میں سو چکا تھا کہ اچانک بس میں ہلچل پیدا ہونے سے آنکھ کھلی تو ہر کوئی ...