EPA
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے رائے ونڈ میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے میں کم سے کم پانچ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 24 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بدھ کی شب ہونے والا یہ دھماکہ خودکش تھا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر سید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خود کش حملے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رائیونڈ میں یہ دھماکہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب رائیونڈ میں مذہبی اجتماع جاری ہے اور یہ مذہبی اجتماع 18 مارچ تک جاری رہے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خود کش حملہ مذہبی اجتماع کے باہر موجود سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہوا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حملے میں پولیس اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔
AFP
حکومت پنجاب نے ٹویٹ کی ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارئیٹر ہسپتال رائیونڈ میں کم از کم چھ لاشیں اور 14 زخمی لائے گئے ہیں۔
لاہور کے ایس ایس پی آپریشنز منتظر مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں اے ایس پی رائیونڈ زبیر نذیر بھی معمولی زخمی ہوئے جنھیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی تھی۔
حملے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ مذہبی اجتماع کے باہر موجود تھی۔
رائیونڈ میں ہونے والے سالانہ مذہبی اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے ملک بھر سے سینکڑوں افراد آتے ہیں اور ہر سال کی طرح اس سال بھی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیرا علیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی نے رائیونڈ دھماکے میں مذمت کی ہے اور آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہےhttp://www.bbc.com/urdu/pakistan-43402956
No comments:
Post a Comment